بین الاقوامی اہل بیت(ع) یمنی قوم کی سعودی اتحاد پر بڑی فتوحات نے ـ فریقین کے ہتھیاروں کے عدم توازن کے باوجود ـ دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ لیکن صرف یمنی بھائیوں کی اقتصادی کمزوری پر توجہ مرکوز کرنا، ـ نہ صرف ان کی قیمتی فتوحات کو نمایاں نہیں کرتا، بلکہ درست حکمت عملی کے طریقے، جدید منصوبے اور غیر متوازن جنگ (Asymmetric Warfare) میں ان کی عملی کارکردگی، مکمل معلوماتی برتری اور بہت عمدہ اور ناقابلِ رسائی معلوماتی حفاظت (Information Security)، بڑی اقتصادی مصیبتوں کے باوجود اندرونی حالات کے مناسب انتظام و انصرام، ایک دہائی سے زیادہ پابندیوں اور محاصرے کے باوجود گولہ بارود، ڈرونز، میزائل اور حیرت انگیز فوجی سامان کی تیاری اور انصاراللہ کی اندرونی طاقت کو نادانستہ فراموشی کے سپرد کر دیتا ہے۔ ہاں! مگر یہ سچ ہے کہ یمنیوں کے ایمان کی طاقت سعودیوں کی مادی طاقت پر غالب آ گئی لیکن صرف اسی بات کا ذکر کرنا اور اسی پر مرتکز ہوکر خود ہی، یمنیوں کی کامیابیوں کو نظر انداز کرنا نہیں چاہئے۔

1۔ یمن کو عام طور پر صرف غربت، 11 سالہ ناکہ بندی اور بے شمار مشکلات کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یمن دہائیوں تک ظالمانہ حکمرانی کا شکار نہ رہتا، تو اس کی تیل اور معدنی دولت اسے خلیج فارس کے پڑوسی ممالک کی طرح خوشحال ـ یا شاید اس سے بھی زیادہ ترقی یافتہ ـ بنا سکتی تھی۔ تاہم، اگر ایسا ہوتا تو ہو سکتا ہے کہ یمنی بھی انہی پڑوسی عرب ممالک کی طرح بے حس اور لا تعلق ہو جاتے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو کھو جاتے!

2۔ بنیادی طور پر، یمن منفرد حیثیت رکھتا ہے؛ اپنے عرب پڑوسیوں کے برعکس ـ جن کی تاریخ محض 50 سے 100 سال تک پرانی ہے ـ یمن کئی ہزار سالہ قدیم و مستند تہذیب کا گہوارہ ہے۔ گذشتہ دہائی کے ہولناک اور تقریباً ناقابلِ یقین چیلنجوں کے درمیان یمنی عوام کی مقاومت و مزاحمت اور حیرت انگيز استقامت، جدوجہد کا مظاہرہ، خدا پر ان کے گہرے یقین اور اسلام اور وطن کی خاطر کوئی بھی یمت ادا کرنے اور کوئی بھی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔
3۔ سنہ 2015ع میں ـ امریکہ اور غاصب صہیونی ریاست کی حمایت سے ـ یمن کو پارہ پارہ کرنے کی سعودی-اماراتی سازش، اور اس ملک پر ان کی ہمہ جہت جارحیتیں، یمنی عوام اور انصاراللہ ـ جس کو یمن کی قوم کی شدید حمایت حاصل ہے ـ کی مزاحمت کی برکت سے ناکام ہو گئیں۔
ریاض۔ابوظہبی اتحاد نے انصاراللہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یمنی مقاومت توڑنے اور صنعا کی حکومت گرانے کا ارادہ کیا لیکن ـ یہ نام نہاد اتحاد ـ 7 سالہ غیر متوازن، غیر قانونی اور غیر منصفانہ ـ نیز لاحاصل ـ جنگ کے بعد جنگ بندی پر مجبور ہو گیا۔ تاہم محاصرہ جنگ کے بعد بھی جاری رہا اور 7 سالہ لڑائی کو ملا کر اب 11 سال ہو گئے ہیں کہ یمن ہر طرف سے محصور ہے۔ اس عرصے میں یمن کی حکومت نے فوجی طاقت کو دوبارہ منظم کیا تاکہ وہ دن آئے جب وہ سعودی عرب کو اپنی سرزمین سے نکال سکے اور یمنی قوم کا محاصرہ بھی ختم کر سکے۔

4۔ اپریل 2022ع کی جنگ بندی سے اکتوبر 2023ع تک، یمن صرف ڈیڑھ سال کے عرصے تک جنگی خاموشی یا جنگ بندی کی حالت میں رہا، اور 7 اکتوبر 2023ع کو طوفان الاقصیٰ کی کارروائی کے 20 دن بعد اور صہیونیوں کے ہاتھوں غزاوی عوام کے قتل عام میں شدت آنے کے بعد، یمن اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے دفاع کے لئے اٹھ کھڑا ہؤا اور اسی سال 27 اکتوبر سے، پورے 2 سال تک صہیونی جہازوں اور صیہونی ریاست سے منسلک بحری جہازوں پر حملے کر کے بحیرہ احمر کو اسرائیل کے لئے غیر محفوظ اور مقبوضہ بندرگاہ ایلات کو عملی طور پر بند کر دیا۔ اس دوران امریکہ، قابض ریاست اور برطانیہ باری باری یمن کی سرزمین پر حملے، اور بے شمار جرائم کا ارتکاب کرتے رہے؛ لیکن آخر کار امریکہ بھی مئی سنہ 2025ع میں صنعا کے ساتھ جنگ بندی پر مجبور ہو گیا اور واشنگٹن نے بالواسطہ طور پر تسلیم کیا کہ یمن کو شکست نہیں دینا ممکن نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: سارا ہوشمندی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ